آغاز
یہاں کچھ نہیں ہوتا۔ نہ کچھ درست کیا جائے گا، نہ کچھ ڈھایا جائے گا۔ کوئی تفسیر نہیں آ رہی۔ کوئی نتیجہ نہیں۔ یہ الفاظ کے اس دھاگے کا کھلا سِرا ہے جو کبھی آوازیں تھے۔ آوازیں جو کبھی کائنات کے اِس کونے اُس کونے میں گونجتی رہیں، خلا کے کسی گوشے میں، یا شاید صرف انسانی تخیل کے کسی گوشے میں۔ اب جبکہ یہ سطریں آپ کی نظر سے گزر رہی ہیں، اُن آوازوں کی توانائی کب کی بجھ چکی ہے اور صفحے پر بس اُن کا خیالی نقش باقی رہ گیا ہے۔ سب خاموش ہو گئے۔ ساری آوازیں، اور شاید وہ سارا جہاں بھی اور اُس کے سارے لوگ بھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس ذہن نے یہ آوازیں صفحے پر اتاری تھیں، وہ کب سے سانس نہیں لے رہا۔ جیسے یہی لمحہ — جو اس جملے کو پڑھتے ہوئے گزر گیا — پہلے ہی جا چکا، اسی طرح اس کتاب کے سارے لمحے گزر چکے ہیں۔ وہ لمحے اور تصویریں جو دنیا کے حوادث کے پُرہنگام شور میں کھو جاتیں اگر یہاں محفوظ نہ کی جاتیں۔ محفوظ کی گئیں تاکہ میرے جہاں اور آپ کے جہاں کے درمیان ایک پُل بن سکیں۔ میرے جہاں سے — اُس لمحے میں جب میں یہ جملے لکھ رہا ہوں — آپ کے جہاں تک — اُس لمحے میں جب آپ انھیں پڑھنے بیٹھتے ہیں۔ اِس طرف سے میں الفاظ کا دھاگہ کھولتا جاتا ہوں، اُس طرف سے آپ اسے سمیٹتے جاتے ہیں۔ جیسے بچپن میں مامان پرانے کپڑوں کا اُون کھولا کرتی تھیں اور ہم دھاگا اٹھا کر گھر کے اندر اندر پھرتے تھے تاکہ اُون گڈمڈ نہ ہو جائے۔ شاید آپ کی نسل اس اُون والی دنیا سے کچھ برس دیر سے آئی ہو، مگر ذرا تصور کریں کہ کبھی، کسی کونے میں، بچوں کا کھیل یہی ہوا کرتا تھا۔ اب میں الفاظ کا دھاگہ کھولتا ہوں اور آپ اسے اٹھا کر اپنی دنیا میں لے جاتے ہیں تاکہ یہاں، میری دنیا میں، گڈمڈ نہ ہو۔